ہجر کی شب ذرا ڈھلی سی ہے


وصل کی بات کُچھ چلی سی ہے

 

1

 

 

 

لرزتے ہونٹ، کھلے بال ملتجی آنکھیں


یہ کون دِل میں ہمارے تڑپ کے آیا ہے

 

2

 

 

 

وہ تازگی ہے سحر کی کلی کی نرمی ہے


خرام اُس کے خزاں کو بہار کرتے ہیں

 

3