حمید شمیم انصاری جِنہیں پاکِستان کے حوالے سے شمیم انصاری کے نام سے جانا جاتا تھا اور اب کینڈا میں حمید انصاری کے نام سے یعنی فرسٹ نیم کی مناسبت سے پہچانے جاتے ہیں۔
والی کوئی قید نہیں۔ First Name پاکِستان میں
حمید شمیم انصاری نے جِس خاندان میں آنکھ کھولی اُسمیں اُردو ادب کا خاصا چرچا تھا۔
اُن کے دادا آزاد انصاری صاحِبِ دیوان شاعر تھے۔ آزاد مرحوُم کے مجموعہ کلام میں دو کتابیں "معارف جلیل" اور "معارف جمیل" شائع ہوئی تھیں جو آج بھی ہند و پاک کی جامعات، اُردو کتب خانوں اور لائبریریوں کا حصہ ہیں۔ جوش ملیح آبادی کے ساتھیوں میں سے تھے۔
جوش صاحب کی مشہوُرِ زمانہ کتاب "یادوں کی بارات" میں ایک باب آزاد صاحب کیلِئے بھی مخصوُص ہے۔ حمید کے والد صاحب احسان احمد انصاری علی گڑھ یوُنیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے اور ہفت زبان تھے۔ احسان صاحب مرحوُم عثمانی
ہ یوُنیورسٹی میں پروفیسر تھے۔
حمید کی والدہ بھی شعر و ادب کی کافی دِلدادہ تھیں اور خوُد بھی شعر کہتی تھیں۔ تاھم اُن کا کلام باوجوہ دامِ طباعت میں نہ آ سکا۔ مرحوُمہ نے ایک دفعہ اپنی تصویر پر اپنا ایک شعر لِکھ کر اپنے بیٹے حمید کو دیا۔
خاک میں مِل جائے گا جب میری ہستی کا نشان
یاد گارِ زیست تازہ ہو گی اِس تصویر سے
جو حمید کے قیمتی اثاثہ کے طور پر ان کے پاس محفوُظ ہے۔ اور اب آنکھوں کے تر ہونے کا باعث ہوتا ہے۔
حمید نے مڈل اسکوُل کے زمانے میں مرزا غالب، علامہ اقبال، فیض اور دیگر اساتذہ کرام کا مطالعہ کیا تھا۔
اسکول ہی کے زمانے میں حمید کو اقبال کا شکوہ جواب زبانی یاد اور غالب کا بیشتر کلام حفظ ہو گیا تھا۔ حمید میٹرک کے بعد جب کالج میں آئے تو اسی دوران ان کے بزرگ یکِ بعد دیگر دُنیا سے رخصت ہو گئے اور بڑے بھائیوں نے کینڈا ہجرت
کی۔ چنانچہ علم و ادب عملاً مفقود ہو گیا۔ اسی اثناء میں حمید کا داخلہ ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد میں ہو گیا اور انہوں نے کینڈا جانے کی بجائے پاکِستان رہنے کو ترجیح دی۔ لیکن اس دوران اور اس کے بعد کافی عرصے تک ان کا ادبی سفر تعطل کا شکار رہا۔
تعلیم: حمید نے ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی میں چار سالہ ڈِگری کورس کیا۔
ملازمت: حمید شمیم انصاری نے مِل سیکٹر کے بجائے ٹیکسٹائل مشینری سیلز اور مارکیٹنگ میں جانے کو ترجیح دی۔ مختلف کمپنیوں سے وابسطہ رہے جِس میں نوُن گروُپ قابلِ ذکر ہے جہاں انہیں مغربی یورپ کے کئی ممالک اور مشرقِ بعید یعنی
چین اور جاپان سفر کرنے کا متعدد بار موقع مِلا۔ پیشہ وارانہ زندگی کے گوُں نا گوُں بڑھتے ہوئے تقاضے ان کو شعر و ادب میں توجہ اور اپنی نثری اور شاعرانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کا موقع فراہم نہ کر سکے۔ اس پوُرے عرصے کے دوران
اُن کا انحصار اسکوُل کالج کے مختصر شاعرانہ سفر تک محدود رہا۔
جنرل مینجر کے کلیدی عہدے پر کئی برس فائز رہنے کے بعد انکے بھائیوں کی ترغیب پر انہوں نے 2005 میں کینڈا ہجرت کی۔ اپنے مستقل کینڈا آنے سے کئی سال قبل انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو کینڈا منتقل کر دیا تھا۔
کینڈا آنے کے بعد چند سال دھکے کھانے کے بعد انہوں نے ریئل اسٹیٹ کا کورس کیا۔ اِسی دوران گاہے بگاہے مشقِ سخن بھی جاری رہی۔ اس عرصہ میں بچوں کی شادی بیاہ کے حوالے سے کچھ دلہنوں اور دولھائوں کیلئے سہرے اور نذرہائے عروس تخلیق کیئے۔
کینڈا جانے کے بعد حمید کا کلام جو پہلے ہی بہت مختصر تھا وہ نقل مکانی کی عفلت کا شکار ہو گیا۔ حمید بہت افسردہ رہے۔ قریب تھا کہ اُن کا بچا کچا کلام ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا، ان کا رابطہ ان کے پاکِستانی ادب شناس دوستوں سے بحال ہوا۔ جِن میں رفعت عزیز اورآصف نواز قابِلِ ذکر ہیں۔
ان کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں حمید انصاری نے اپنی ادبی کاوشوں کو جاری رکھنے اور انٹرنیٹ پر محفوُظ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی ضمن میں ٹی جی ایم چینل نے اُن کے کئی وی لاگز ترتیب دِیئے جِس میں اُنکی کُچھ حالیہ شاعری موجوُد ہے۔
انشا اللہ یہ کام جاری رہے گا اور بہت جلد حمید انصاری کا مزید کلام بھی شامل کیا جاے گا