عروُسِ ناز تِرا انتظار کرتے ہیں
خوش آمدید بصد افتخار کرتے ہیں
دمک اُٹھی ہیں جبینیں مہک اُٹھی محفل
نفوُس کِس کے فضا مشکبار کرتے ہیں
وہ شاہکار ہے صوُرت کی حسن سیرت کی
نظر لگے نہ ملائک حصار کرتے ہیں
فروغِ موسمِ گُل ہے نوائے بُلبُل ہے
سب اُس کے رنگ چمن لالہ زار کرتے ہیں
وہ تازگی ہے سحر کی کلی کی نرمی ہے
خرام اُس کے خزاں کو بہار کرتے ہیں
نگاہِ ناز مِلانے کا حوصلہ لیکر
وہ رنگ و نوُر کا سیلاب پار کرتے ہیں
اُٹھے ہیں شان سے آنے کو روبروئے عروُس
سلام جھُک کے مگر تاجدار کرتے ہیں
تُم ہی سے ٹوُٹ کے بے اختیار کرتے ہیں
تُم ہی سے عشق ہے دیوانہ وار کرتے ہیں
تُم ہی کو دیکھ کے جیتے ہیں تُم پہ مرتے ہیں
تُم ہی سے عہدِ وفا استوار کرتے ہیں
طلِسمِ عشق ہمارا کہ آنکھ جھُک نہ سکے
یا اُن کا حُسنِ نظر آنکھ چار کرتے ہیں
ہجوُمِ شوق میں تکنا اُنھیں غلط ہی سہی
یہ جانتے ہیں مگر بار بار کرتے ہیں
جو گِر کے اُٹھ نہ سکے شہسوار ہی کیا ہے
جو وار کرتے ہیں مردانہ وار کرتے ہیں
وہ نوک جھونک وہ تکرار پھِر وہ من جانا
یہ اختلاف ملن پائدار کرتے ہیں
شبِ عروُس ترنم وہ چاندنی وہ غزل
وہ گیت اب بھی ہمیں بے قرار کرتے ہیں
جو ہم پہ قرض محبت کا تھا چکا بیٹھے
کبھی اُدھار کیا نہ اُدھار کرتے ہیں
یہ سچ ہے دِل سے محبت بڑے جگر والے
کہ زندگی میں فقط ایک بار کرتے ہیں
ہماری جان سِمونا ہے دِل ہے عبدللہ
ہم ان پہ اپنے دِل و جاں نثار کرتے ہیں
اگر ہے مانگ کی افشاں تو ارسلاں جھوُمر
یہ دونوں مِل کے تُمھارا سنگھار کرتے ہیں
حسن کا حُسنِ تکلم فرح کا حُسنِ خرام
حسین تر ترے لیل و نہار کرتے ہیں
علی کی نیک دِلی عائشہ کی دِلداری
ہمارے گھر کو بڑا پُر وقار کرتے ہیں
ہمارے آدم و نائل ہمارے شہزادے
ہماری روُح کو باغ و بہار کرتے ہیں
وہ اپنی ذات میں خوُد انجمن ہیں یوُسف خان
وہ جو بھی کرتے ہیں بس آر پار کرتے ہیں
انعام اتنے خُدا کے، گِنیں تو گِن نہ سکیں
اور ایک ہم ہیں کہ سجدے شُمار کرتے ہیں
جھُکے ہیں سر تری تقدیر مانگنے کی لیئے
اُٹھے ہیں ہاتھ دُعائیں ہزار کرتے ہیں
قسم ہے تُم کو ہماری کہ صائمہ تُم سے
حمید آج بھی پہلا سا پیار کرتے ہیں