نظم عنوان: حُرمتِ خوابگاہ

 


خواب گاہِ تصورِ شب میں


میری خاموشیوں پہ آویزاں


میری سوچوں کی چاپ پر چسپاں


میری آنکھوں کی تھاپ پر رقصاں


کُچھ بِکھرتے ہوُئے نئے نغمے


کُچھ چٹکتے ہوُئے نئے غنچے


کُچھ لپکتے ہوُئے نئے شعلے


چند بیباک پپر کشش چہرے


ناز و انداز سے سلیقے سے


اپنے پیکر کے خد و خال سمیت


میری باہوں کے گِرد گھیرے میں


بہکے بہکے سمٹ سے آتے ہیں


چند چہروں کا خوُشگوار سا لمس


اِک ذرا دوش پر مرے لہرے


اور خواہش کا شعلہ بار سا شمس


دوُر چہروں سے بس سوا نیزے


سانس لیتا رہا کرے گہرے


اس سے پہلے وجوُد ٹکرائیں


مکرِ ابلیس سے دغا کھائیں


حبس بڑھ جائے دم اُلجھ جائیں


چاندنی سوگوار ہو جائے


آسمان اشکبار ہو جائے


آبرو تار تار ہو جائے


خوابگاہِ تصورِ شب میں


اس سے پہلے کہ یہ تماشہ ہو


اس سے پہلے نفوُس پسپا ہوں


روح بسمل ہو جِسم و جاں گھائل


اِک ذرا روک لو کوئی ہلچل


سوچنے دو مُجھے کوئی دو پل


مریمِ بے قصوُر کے بابت


بہن و بیٹی کے حور کے بابت


ماں کے ماتھے کے نوُر کے بابت