قریب ہی کوئی ہولے سے گُنگنایا ہے
کِسی نے بڑھ کے مُجھے خواب سے جگایا ہے
پگھل گئے مِرے اندیشہ ہائے دوُر دراز
پس ِ خیال کوئی تُم سا جھلملایا ہے
فرار ِ یاد کی گم سم خزاؤں کو رو کر
بہارِ یاد کا ہنستا چمن سجایا ہے
لرزتے ہونٹ، کھلے بال ملتجی آنکھیں
یہ کون دِل میں ہمارے تڑپ کے آیا ہے
تُمھارے سادہ سے روشن کشادہ ماتھے پر
ادائے لمسِ محبت کو آزمایا ہے
کہاں کنارہ مِلے کیسے جاں بچا پائیں
تمہاری یاد نے طوُفان سر اُٹھایا ہے
سدا رہیں گی فروزاں قلم کی قندیلیں
تمہارے نام پہ میں نے قلم اُٹھایا ہے
ہم آج کِس سے شِکایت کریں کِسے روئیں
بھلا کِسی کا کوئی درد جان پایا ہے؟
مرے کلام کے بین السطوُر رازوں سے
جو میں نے پردہ کِیا تُم نے کیوں اُٹھایا ہے؟
یہ میرا حُسنِ تصور کہ خوُش گمانی ہے؟
لگا ہے جیسے کوئی ہنس کے کھِلکھلایا ہے
حمید تُم سے گریزاں رہا عمر بھر وہ
چلو کہ صُبح کا بھوُلا تھا شام آیا ہے