جب ستاروں کے تختِ شاہی پر
جلوہ افروز چاند ہوتا ہے
شب کے تاروں کا دِل کے داغوں کا
حُسن جب ماند ماند ہوتا ہے
گیسوئے رات جب سنورتی ہے
نقرئی چاندنی بِکھرتی ہے
جب خیالوں کی کہکشاں میرے
افقِ ذہن پر اُترتی ہے
سوچتا ہوُں کہ تیری دُنیا میں
مصلحت کیشیوں کی دُنیا میں
سحرِ گُفتار کا فقط اظہار
پیار و ایثار کی فقظ تکرار
حُسنِ مہر و وفا پہ بھاری ہے
سوچتا ہوں کہ پاسِ خوداری
عزتِ نفس کی وضع داری
جِس کا بس کُچھ یہی شعار رہے
جِس کا کُچھ یوُں ہی حالِ زار رہے
وہ مہذب نہیں بھکاری ہے
سوچتا ہوُں کہ کُچھ گُزارا ہو
زرِ تہذیب کا سہارا ہو
مُجھ کو آ جائے کُچھ اداکاری
کُچھ فسوُں کاری کُچھ ریا کاری
پھِر یہ دُنیا مری پُجاری ہے