تمھاری اس شاعری پر اپنی ادناء بساط کے مطابق کچھ فورا" لکھ کرکھنے کا شدید من تھا جو بوجوہ عمل پذیر نہ ہوسکا۔۔۔۔۔
تمھاری موجودہ نظم پر اگر میں کچھ تعریفی کلمات لکھ بھی دیتا تو وہ بالکل اس طرح ہوتا جیسے میں چراغ ہاتھ میں لیکر صبح دم سورج کی
روپہلی کرنوں کو ماند کرنے کوشش کرتا یا دیئے کى روشنی سے چاند کی پرسکون سنہری چاندنی کو مزید روشنی کا لبادہ اٹھانے کی سعی ناکام
میں مبتلاء ہوتا۔۔۔ ۔۔۔۔
تمھاری شاعری ہمیشہ سے موضوعی اور مقصدی رہی ھے۔ ۔۔۔۔
مثلا:
تمھارے سادہ سے روشن کشادہ ماتھے پر ۔۔۔۔۔۔۔ خلوص لمس محبت کو آزمایا ںے۔۔۔۔
اگر صرف یہ لکھ دیا جاتا کہ محبت سے ماتھا چوم لیا گیا تویہ ایک سکہ بند عام بات ھوتی۔
تاھم تم نے ماتھے کے انتخاب تک اکتفاء نہی کیا بلکہ ماتھے کی توضیع اور توصیف میں اسکی پاکیزگی کو بھی شامل کیا ۔۔۔ اور پھر سونے پر
سہاگہ یہ کہ بوسہ دینے کے زندگی کے ایک عام عمل کو بلندگی، بالیدگی اور پاکیزگی کے ہمالیئی عروج پر پہنچادیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور معاملہ یہں پر بس نہی ہوا بلکہ ایسا لگا کہ ابھی ارتقاء کا عمل شروع ہوا ھے۔۔۔
خوبصورتی کا عروج مزید وہاں سے شروع ہوتا ھے کہ ماتھے کی جنس طے کرنا قاری کا زمہ ٹھرا دیا گیا۔
میری دعائیں ہیں کہ تمھاری شاعری میں جو یکتائی، اچھوتگی، جدت اختراعت، بے ساختگی، خوبصورتگی، لطافت و کیمیاء گری ھے وہ شب و
روز اسی طرح وسعتوں میں مائل پرواز رھے۔۔۔۔ امین۔