ذہین آنکھیں کمان ابرو گلاب عارض حسین چہرہ
کہ اُس پہ نازک کلائیوں کے حصار کا دلنشین پہرہ
کبھی تُجھے بھی خیال آتا ہے میرے محبوُب ان دنوں کا
مری محبت نے ڈال رکھا تھا دِل کے تیرے قرین ڈیرہ