سہرا-عُثمان اختر

 


برخودار عُثمان اختر کی شادی خانہ آبادی کے مبارک موقع پر پیش کِیا گی



مہکتے پھوُلوں کے مہ وشوں کے جلو میں ہے تاجدار سہرا


یہ کون آتا ہے انجمن میں سجا کے رشکِ بہار سہرا

 


دمکتے چہروں کی روشنی ماند پڑ رہی ہے کچھ اس طرح سے


کہ جیسے سوُرج ہو درمیاں میں کہ جیسے نصف النہار سہرا

 


یہ ابتدائے سفر کا ضامن یہ منتہائے سفر کا مخزن


رہِ سفر میں بنا رہا ہے وفا کے نقش و نگار سہرا

 


میں آج کِس کی نظر اُتاروں میں کِس کی اُٹھ کے بلائیں لے لوں


اُدھر ہے ماہِ عروس روشن اِدھر ہے جوبن بہار سہرا

 


یہ حسن سہرے کا مدعا ہے کہ روئے عثمان کا کرشمہ


سنبھل سنبھل دیکھتی ہے نیہا گھڑی گھڑی بار بار سہرا

 


یہ خوُئے سادات کا مرقّع وہ وصفِ صدیق سے مرصّع


مگر ترے نقشِ پا میں نجمہ چھُپی ہے خلدِ بہار سہرا

 


فہیم و نجمہ کے چشمِ نم سے خوشی کے آنسو رواں دواں ہیں


گُلوں پہ سہرے کے گر رہے ہیں تو پا رہا ہے نِکھار سہرا

 


ثناء و ارشد ہیں گُل بداماں اور ان کے یاقوُت و لعل و مرجاں


کہ جیسے سہرے میں جڑ گئے ہوں قطار اندر قطار سہرا

 


ہمارے نیر مسعوُد رعنا و سیما منصوُر ہوں کہ سلمیٰ


جو پیار پنہاں تھا ان کے دِل میں وہ کر گیا آشکار سہرا

 


عریب و منصوُر ہوں ثمینہ کہ راشدہ ہوں یا اُن کے مہماں


نگاہیں خیرہ ہیں سب کی یارو ہٹا کے دامِ حصار سہرا

 


ہیں آنکھ اوجھل تو کیا ہوا ہے شریکِ محفل ہے اُن کی خوُشبو


کہ دادی دادا یہیں کہیں ہیں یہیں سرِ مرغزار سہرا

 


وہ جان تُجھ پہ چھڑکنے والے وہ نانی نانا وہ چاند ماموں


عجیب احساس ہے کہ جیسے کھڑے ہوں قُرب و جوارِ سہرا

 


محبتوں میں بسا ہوا ہے کہ چاہتوں میں رچا ہوا ہے


بیادِ رضیہ لِکھا گیا ہے یہ منفرد شاہکار سہرا