رونمائی کو مِلی جیسے اجازت اس کی
چاند نِکلا ہے جھلک پانے کو صوُرت اس کی
مُسکراہٹ میں ہے میٹھی سی لطافت اس کی
دِل کو چھوُ لیتی ہے لہجے کی ملاحت اُس کی
جب بھی گُلشن میں گئی ہے وہ بہار آئی ہے
کلیاں چٹکی ہیں چُرانے کو نزاکت اس کی
اُس کی سیرت کی ضیاء سے ہے منور عالم
آج تو ڈھائی ہے صوُرت نے قیامت اس کی
اُس نے مشرق میں کئی شمعیں فروزاں کر دیں
درس و تدریس میں یکتا ہے ذہانت اس کی
اس نے مغرب میں بھی شہتیر گرائے ہیں کہیں
کامیابی کا سفر بن گئی عادت اس کی
اس کو روزوں کی ہے دھُن اور نمازوں کی لگن
زندگی حمد و ثناء سے ہے عبارت اس کی
اس سراپا کی دمک شمس کی تابانی ہے
اور تسلسل ہے ریحانہ کا مروت اس کی
وہ تو مجموعہ ءِ اوصافِ ضیاء عالم ہے
اُن کی یادوں میں نمایاں ہے صداقت اس کی
وہ ہے فاروُق کا ادراک ارم کا اسلوب
ان کی سوغات سلیقہ ہے فراست اس کی
یاد آئے گا بہت اس کو چہیتا بھائی
جس سے پیوستہ ہے پل پل کی مسافت اس کی
فاطمہ پیار کی امرت ہیں تو نسخہ شاہد
ان کی خدمت سے ہے وابستہ سعادت اس کی
آج کی شُبھ گھڑی عہد یہ کرتا ہوُں فراز
لمحہ لمحہ مرا جیون ہے امانت اس کی
تھام کے ہاتھ چلو پھوُلو پھلو شاد رہو
ھر طرف سایہ فگن تُم پہ ہو رحمت اس کی