حسن معصوُم ملائم ہے طبیعت اس کی
سادگی نیک دِلی پیار ہے فطرت اس کی
چاندنی پھوُل کلی رنگِ حِنا حسنِ بہار
جب ہوں جوبن پہ تو آتی ہے شباہت اُس کی
آنکھ کھولی تو بنی آنکھ کا تارا سب کی
گھر کی ہر شےء میں اُتر آئی تھی زینت اُس کی
اُس کی ھر ایک ادا دِل کو لُبھا دیتی تھی
نت نئی ہوتی تھی ھر ایک شرارت اُس کی
اُس نے جب ہوش سنبھالا تو پری زادوں کے
اُڑ گئے ہوش جھلک دیکھ کے صوُرت اُس کی
شوخ کرنوں نے بُنا پیرھنِ حُسنِ عروُس
شمس اوجھل ہی سہی پر ہے حرارت اُس کی
جِس کا اعزاز ہے طلحہ تو فخر عبدللہ
ایسے رِشتوں کی ہے بنیاد محبت اُس کی
سُر ہے نغمہ کا وہ احسان کی موسیقی ہے
زندگی حمد و ثناء سے ہے عبارت اُس کی
اُس نے دادی کی وسیع القلبی پائی ہے
نانی نانا کا تسلسل ہے مروت اُس کی
وہ ہے قسمت کا دھنی پائی ہے اُلفت اُس کی
نائمہ ساتھ ہو دُنیا بھی ہے جنت اُس کی
برملا آج میں اقرار یہ کرتا ہوُں نبیل
دِل کی ملکہ بھی وہی جاں بھی امانت اُس کی
دین و دُنیا کی خوُشی تیرا مقدر ہو نصیب
روز و شب تُجھ پہ برستی رہے رحمت اُس کی